Ancient History of Kohsar
CIRCLE BAKOTE
CIRCLE BAKOTE
&
MURREE HILLS
************************
معزز قارئین و ناظرین
************************اسلامُ علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔۔۔۔ امید ہے مزاج بخیر اور کامل ایمان کی حالت میں ہوں گے۔۔۔۔ آپ نے گزشتہ دو روز سے ۔۔۔ تاریخ و تمدن کوہسار ۔۔۔۔ پر مبنی ر وزنامہ آئینہ جہاں اسلام آباد میں شائع ہونے والے میرے کالموں پر اپنی جس پسندیدگی کا اظہار کیا ہے میں اس پر آپ کا بہت شکر گزار ہوں ۔۔۔۔ میں اس ساری کاوش کا کریڈٹ ۔۔۔۔ ر وزنامہ آئینہ جہاں اسلام آباد ۔۔۔۔ کے چیف ایڈیٹر جناب اشتیاق عباسی کو دوں گا جن کا اصرار اور تقاضا میرا ہم رکاب ہے، جب تک انہیں کالم نہ بھیج دوں آرام سے بیٹھنے نہیں دیتے اور کالم ملنے پر اس کا ناقدانہ جائزہ بھی لیتے ہیں اور مزید ہدایات بھی دیتے ہیں کہ ۔۔۔ یہ واقعہ یوں بیان کیا جا سکتا ہے اور اس کی سرخی اس طرح ہو سکتی ہے ۔۔۔ میں ان کی کوہسار کی تاریخ میں اتنی دلچسپی اور پھر اسے آپ تک پہنچانے کی دھن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرماوے ۔۔۔آمین
**************
میں اپنے ان قارئین کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں جنہوں نے میری اس کاوش کو ناقدانہ کسوٹی پر پرکھا اور اپنے بیحد مفید مشوروں سے نوازہ ۔۔۔ ان میں جناب عطا الرحمان عباسی بھی شامل ہیں، انسانی حقوق کی ایک ملکی تنظیم کے عہدیدار بھی ہیں اور علم و ادب سے ماشااللہ بڑا شغف رکھتے ہیں، ان کا تعلق بیروٹ سے ہے ۔۔۔ کل انہوں نے فون کر کے کہا کہ ۔۔۔ علوی صاحب، آپ اب صحیح ٹریک پر آئے ہیں ۔۔۔ آپ کام کریں، کوہسار کی تاریخ عوام تک پہنچائیں، نیشنل لائبریری اسلام آباد کی تمام مطلوبہ کتب آپ کے سامنے ڈھیر کر دوں گا ۔۔۔۔ ؟
****************
میں اس موقع پر اپنے ان پرانے دوستوں کا بھی شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں جنہوں نے میرے اس علمی کام کا نہ صرف حوالہ دیا بلکہ اسے شائع بھی کیا، اعوان دانشور محبت حسین اعوان نے کوہسار میں بولی اور اب لکھی جانے والی ۔۔۔ ڈھونڈی کڑریالی زبان کے بارے میں میری تحقیق کو ۔۔۔ اسی زبان میں اپنی پہلی کتاب سیرت ۔۔۔ اساں نیں نبی پاک ﷺْ ۔۔۔ کا دیباچہ بنایا ۔۔۔۔ مری ڈگری کالج کے پروفیسر جناب ڈاکٹر گلفراز عباسی نے بہاوالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان سےڈھونڈی زبان کے بارے میں اپنے پی ایچ ڈی مقالے میں میرے اس دیباچے کا ذکر کیا، میں اپنی بیٹی ماہ امم علوی کا بھی ممنون ہوں کہ اس نے اپنی ایم فل کی ایک اسائنمنٹ ۔۔۔ اردو ادب کے ڈھونڈی زبان و ادب پر اثرات ۔۔۔۔ میں میری کاوش کا حوالہ دیا، بیروٹ کے نامور مورخ اور انٹرنیٹ پر ۔۔۔۔ علاقہ و عباسی برادری کی بولتی تاریخ کوہسار ۔۔۔۔ کے پہلے دانشور جناب نعیم عباسی نے اپنی کتاب ۔۔۔ جنت سے عروج عباسیہ تک ۔۔۔۔ میں میرا ذکر کیا ہے، ان کا بھی ممنون مشکور ممنون ہوں، اس موقع پر میں اپنے نہایت قابل احترام دوست اور دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کے اسسٹنٹ لائبریرین ۔۔۔ جناب نصیر عباسی آف بیروٹ کا شکریہ ادا نہ کروں تو بہت بڑی زیادتی ہو گی، دوہزار تین سے چھ کے دورا ن عالمی اسلامی یونیورسٹی کے ایک علمی پروجیکٹ جو یہودیت سے متعلق تھا ۔۔۔ کتابوں کے حوالے سے میری بہت مدد کی اسی دوران مجھے ان کتابوں تک بھی رسائی ہو گئی جو ان کے بغیر نا ممکن تھی، میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق لائیبریرین غفور ستی کا بھی بیحد مشکور ہوں کہ دس سال قبل انہوں نے مجھے کوٹلی ستیاں بار کے تا حیات چیئرمین جناب صبیر ستی ایڈووکیٹ کی کتابیں ۔۔۔ تاریخ ستیاں اور ستی سماج۔۔۔ عنایت کی تھیں ۔۔۔۔ ان حضرات کے علاوہ میں ان تمام کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے کسی بھی حوالے سے ۔۔۔ میری غیر مطبوعہ کتاب ۔۔۔ تاریخ و تمدن کوہسار ۔۔۔ لکھنے میں میری مدد و اعانت کی ۔۔۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر دے۔
وادی کوہسار کی تشکیل کیسے اور کب ہوئی ۔۔۔۔؟
طوفان نوح کے بعد کوہسار کا علاقہ مری سے ناگا پربت اور کاغان تک ایک جھیل کی صورت اختیار کر گیا تھااسی جھیل کے نیچے دو ارضیاتی تہیں بھی ہیں جو اس پہاڑی ہمالیائی سلسلہ کے شرقی و غربی علاقے کو گھیرے ہوئے ہیں
انہی پلیٹوں کے رگڑائو سے یہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں، ہر پانچ سو سال بعد آنے والا زلزلہ یہاں کی جغرافیائی صورتحال کو بھی تبدیل کر دیتا ہے
بڑے زلزلوں سےدریائے جہلم نے کٹائو شروع کیا، دریا جوں جوں نیچے جاتا گیا نئی ندیاں نالے، لینڈ سلائیڈ سے نئے خطے بنتے گئے
پوٹھوہار مانس ۔۔۔۔ دنیا کی وہ سب سے پہلی مخلوق تھی جوسب سے پہلے اس کوہسار میں آئی، ماہرین ارضیات
کوہسار کے ساتھ ساتھ موجودہ راولپنڈی میں وادی سوہاں کی تہذیب بھی پروان چڑھی اور یہ علاقہ عالمی منڈی بن گیاوادی سوہاں میں مذہبی لحاظ سے پشو ویتی دیوتا کی پوجا کی جاتی تھی جو دراوڑوں کے نسلی، نسبی، سماجی و اقتصادی طور پرکمتر لوگوں کا دیوتا تھا *****************************
تحقیق و تحریر:عبیداللہ علوی
*****************************
آرٹیکلز کا یہ سلسلہ روزنامہ آئینہ جہاں اسلام آباد
میں اکیس سے تئیس دسمبر کے دوران شائع ہوا تھا
*****************************
یہ سوال کوہسار کے ہر شخص کے لبوں پر ہے کہ ۔۔۔۔ وادی کوہسار کی تشکیل کیسے اور کب ہوئی ۔۔۔۔؟ آج اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائیگی، طوفان نوح کے بعد کرہ ارضی وہ نہیں تھا جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت آدم کے حوالہ کیا تھا، جوں جوں پانی اترتا گیا تو نئے نئے خطے سامنے آتے گئے، ماہرین ارضیات (جیالوجسٹس) اس بات پر متفق ہیں کہ جب زمین سے پانی اترا تو کوہسار کوہ مری، سرکل بکوٹ، آزاد کشمیر کا پہاؑڑی علاقہ مری کی چوٹیوں سے ناگا پربت اور کاغان تک ایک جھیل کی صورت اختیار کر گیا تھا، جس میں برفانی تودے (آئس برگ) تیرتے رہتے تھے، سائنس دانوں نے اس دور کو پلیوسینی عہد لکھا ہے جس کا عرصہ ستر لاکھ سے لیکر چالیس ہزار سال قبل مسیح کا ہے، اسی جھیل کے نیچے دو ارضیاتی تہیں بھی ہیں جو چین سے شروع ہو کر کوہ سلیمان تک کے پہاڑی ہمالیائی سلسلہ کے شرقی و غربی علاقے کو گھیرے ہوئے ہیں، کوہ موشپوری، مارگلہ کی پہاڑیاں اور کاغان کے مشرق سے ایک تہہ (پلیٹ) بحر عرب جبکہ ان کی بنیادوں سے شروع ہو کر مغرب میں بحر منجمد شمالی تک کی دوسری پلیٹ ہے، سرکل بکوٹ اور کوہ مری سمیت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھی انہی پلیٹوں پر واقع ہے اور ان کے رگڑائو سے یہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں، تاہم ہر پانچ سو سال بعد آنے والا زلزلہ یہاں کی جغرافیائی صورتحال کو بھی یکسر تبدیل کر دیتا ہے، جب کوہسار کی شکل بھی جھیل کی سی تھی تو چھوٹے موٹے زلزلوں سے تو کوئی خاص اثر نہیں ہوا مگر جب بڑے زلزلوں نے اس جھیل کو ہلانے کی کوشش کی تو یہ کئی ایک اطراف سے چھلکتی رہی جس کے نتیجے میں پہلے تو ندیاں بنیں جو موجودہ اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ، سواں اور بھارہ کہو کے مقامات سے گزرتی رہیں، اس کی ایک ندی لہتراڑ سے بھی گزری اور پھر ایک بڑے زلزلے کے نتیجے میں نرم مٹی سے راستہ بناتے ہوئے موجودہ دریائے جہلم نے کٹائو شروع کیا، دریا جوں جوں نیچے جاتا گیا نئی ندیاں نالے، لینڈ سلائیڈ سے نئے خطے بنتے گئے جو آج ہم سب کے سامنے ہیں۔ اس جھیل کو یونانیوں نے ۔۔۔۔ ستی سارس ۔۔۔۔ کا نام دیا بعد میں ہیروڈوٹس کے عہد میں یہ ۔۔۔۔ ستی سر ۔۔۔۔ کہلانے لگی، ویدوں کے مطابق پانچ لاکھ سال قبل اس کا نام ۔۔۔۔ سمارا۔۔۔۔ تھا۔
دنیا کے دیگر خطوں میں سے بہنے والے دریائوں کی طرح دریائے جہلم کی بھی کوہسار میں زندگی بسر کرنے والوں کی زندگی میں اہمیت ہمیشہ رہی ہے، یہ ان کیلئے سیاحت، جمالیات اور رزق کا وسیلہ بھی رہا ہے، ابھی نصف صدی قبل تک اہلیان کوہسار اس دریا سے ۔۔۔ ہاڑیٹیاں ۔۔۔ بھی حاصل کرتے تھے۔ قدیم ہندوستانی مقدس کتابوں وید اور پران سے رجوع کریں تو ہمیں اس دریا کا نام ۔۔۔ وہت ۔۔۔ ملتا ہے، رگ وید میں اسے ۔۔۔ وتستا ۔۔۔۔ لکھا گیا ہے، دو ہزار سال قبل سکندر مقدونی (سکندر اعظم) کے ساتھ آنے والوں نے اس دریا کو ۔۔۔۔ جہیلم ۔۔۔۔ لکھا جو بعد میں جہلم ہو گیا حالانکہ یہ دریا تو دریائے نیلم سمیت بالائی ہمالیائی سلسلوں کے پانیوں پر مشتمل ہے مگر سرائے عالمگیر سے اسے عبور کرتے ہوئے سکندر کا گھوڑا ٹھوکر کھا کر اس کی طغیانیوں کی خوراک بنا تو اس شہنشاہ عالم کےگھوڑے کے نام پر اس جگہ کو ۔۔۔۔ جہیلم ۔۔۔۔ سے منسوب کر دیا گیا، بعد میں گکھڑوں نے اس دریا کو اسی مناسبت سے دریائے جہلم قرار دیا جو لمحہ موجود تک جاری ہے، فرشتہ نے اسے ۔۔۔۔ دریائے بھت ۔۔۔۔ مغل اعظم جلال الدین اکبر کے اکلوتے اور چہیتے فرزند شہنشاہ جہانگیر نے اپنی تزک میں اسے ۔۔۔۔ دریائے بھٹ ۔۔۔ لکھا ہے، ایک ہندو روایت یہ بھی ہے کہ ہندو دیوتا کرشن جی مہاراج نے کوہسار کی اس جھیل سے اپنی انگلی سے سوراخ کر پانی کو گزرنے کا راستہ دیا اس لئے اس کا نام ۔۔۔ کشن گنگا ۔۔۔۔ بھی ہے۔
کوہسار کی جھیل کا پانی اترنے کے بعد یہاں گھاٹیاں، گف (غاریں)، نکریں، ڈنے اور ناولیوں کی تشکیل ہوئی، ماہرین ارضیات کا تو یہ بھی دعویٰ ہے کہ ۔۔۔۔ پوٹھوہار مانس ۔۔۔۔ دنیا کی وہ سب سے پہلی مخلوق تھی جوسب سے پہلے اس کوہسار میں آئی (کرم حیدری، داستان مری) کوہسار میں نمی کے باعث جنگلات بھی اگنے لگے اور صرف ایک ہزار سال کے دوران یہاں سر کے بالوں کی طرح درخت، جھاڑیاں، جڑی بوٹیاں اگ آئیں، پھلدار درخت بھی کثرت سے تھے، اس کے نتیجے میں پنجاب کے میدانوں سے بن مانس، بندروں، ریچھوں سمیت حشرات الارض بھی یہاں پہنچے ۔ ماحولیاتی موافق حالات کے بعد اس وادی کوہسار میں جو پہلا قبیلہ پہنچا وہ راول تھے، کچھ ماہرین انتھراپالوجی کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔ اس خطہ میں آنے والے دراوڑ تھے جو ناگ پوجا کرتے تھے، کوہسار کے ساتھ ساتھ موجودہ راولپنڈی میں ۔۔۔۔ وادی سوہاں کی تہذیب بھی پروان چڑھی اور یہ علاقہ عالمی منڈی بن گیا، یہ وسطی ایشیا سے مشرق بعید تک کی گزرگاہ تھا، بعد میں یہی علاقہ قدیم ہند کے ثقافتی شہر ۔۔۔ ٹیکشالا یا موجودہ ٹیکسلا ۔۔۔ کا پیشرو بھی بنا، اس سوہاں شہر کا بھی کوہسار پر اثر پڑا اور یہاں کے پہلے بادشاہ راج گاج نے کوہسار پر پہلی بار اپنی عملداری قائم کی، ماہرین آثاریات (آرکیالوجسٹس) اس دور کو پتھر کے عہد (سٹون ایج) کا نام دیتے ہیں، وادی سوہاں کی اس سلطنت میں اس وقت مذہبی لحاظ سے پشو ویتی دیوتا کی پوجا کی جاتی تھی جو دراوڑوں کے نسلی، نسبی، سماجی و اقتصادی طور پرکمتر لوگوں کا دیوتا تھا اور مسلمانوں کی عید کی طرح اس وقت کے ۔۔۔ وتنا مشی ۔۔۔۔ تہوار پر اس کا نام اعلیٰ طبقات کے رب الارباب ۔۔۔ گودی کرتنا ۔۔۔ رکھ دیا جاتا تھا
*******************************
تاریخ کوہسارکا سٹون ایج ۔۔۔۔ قبائل اور ان کا الہیاتی نظام
اس عہد کے وسط میں پاکش قبیلہ یہاں کا حکمرا
ن تھا،غلام اور داس بنانے کا آغاز اسی سے ہوا
سٹون ایج میں راولپنڈی کے شمالی پہاڑوں
میں دھارمک، ویسو اور سر قبائل آباد تھے، ذریعہ معاش ڈاکہ زنی تھا
دریائے جہلم کے دونوں اطراف میں ملیچھ،
نشد، گھیش، بھٹ، ایکنیگ، تانترے اور ٹیاٹک قبائل نے بھی جگہ لے لی تھی
آریائوں کے ابتدائی قافلے بھی کشمیر جاتے
ہوئے موجودہ نتھیاگلی اور ٹھنڈیانی کے راستے
کوہسار سے گزرنے لگے تھے
مذہبی لوگ خود کو ۔مانسو پرجا۔ یعنی آزاد لوگ کہلواتے تھے، دو نسلوں کے بعد مقامی
چپٹی ناک والوں سے لڑنا شروع کر دیا
کلوہسار کی پہلی۔۔۔شو راگیا لڑائی میں علاقے
کے دس راجوں مہاراجوں نے حصہ لیا تھا، ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے
برہمنیت نے ناتھ یا پیر بن کر پہاڑوں کی
بلند چوٹوں کو دیو آشرم سنگرام بنا لیا، نتھیا گلی میں یہی ناتھ لوگ قیام کرتے تھے
*******************************
تحقیق و تحریر: عبیداللہ علوی
*******************************
ہندوستان کی عہد عتیق کی تاریخ کے مطالعہ
سے کوہسار کے حالات کی مزید عقدہ کشائی ہوتی ہے، بارہ سے پانچ ہزار سال قبل مسیح کا
عہد کوہسار کی تاریخ کا سٹون ایج ہے، اس عرصہ کے دوران زمین پر موسم سرما نصف سال کا ہو چکا تھا، دریائے جہلم
کا کٹائو بھی جاری تھا۔ پہلے یہ گھڑیال، پھر دیول، کہو شرقی، بیروٹ اور آخر میں موجودہ
دومیل ، باسیاں سے گزرنے لگا۔
اس عہد کے وسط میں ایک قبیلہ کی حکمرانی
کا ذکر ملتا ہے، یہ پاکش قبیلہ تھا، مقامی لوگ اس قبیلہ کے داس یعنی غلام تھے، خواتین
داسیاں کہلاتی تھیں جنہیں دن بھر کام کے بعد رات کو ایک ایسی کوٹھڑی میں دھکیل دیا
جاتا تھا جہاں وہ رکوع کی حالت میں داخل ہوتیں اور چیونٹیوں اور دیگر حشرات کے ساتھ
رات بسر کرتیں، نیم آزاد قبیلوں سے یہ قبیلہ خراج جبکہ آزاد لوگوں سے تحائف وصول
کئے جاتے، اس قبیلہ کا مرکز موجودہ راول ڈیم اسلام آباد کے مقام پر ۔۔۔ گاجی پور
۔۔۔۔ گائوں تھا جبکہ اس کے مقتدر لوگ کوہسار میں بھی آباد تھے۔
کوہسار کی آبادی کے بارے میں مستشرقین
بالخصوص ۔۔۔ ہوریس آرتھر روز ۔۔۔ اپنی کتاب
۔۔۔ اے گلاسری آف ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف پنجاب اینڈ این ڈبلیو ایف پی ۔۔۔۔ میں لکھتا
ہے کہ ۔۔۔۔ اس سٹون ایج میں راولپنڈی کے شمالی پہاڑوں میں دھارمک، ویسو اور سر جیسے
قبائل آباد تھےجو جہالت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اور ان کا ذریعہ معاش ڈاکہ زنی
تھا، ایک ہندوستانی انتھراپالوجسٹ سبھاش چندر
شرما اپنی کتاب ۔۔۔۔ پنجاب، دی کروشئل ڈ یکیڈز ۔۔۔۔ میں لکھتا ہے کہ ۔۔۔ اس دور میں مری اور سامنے کے دیگر پہاڑی سلسلے
میں جن قبائل کی آبادیاں تھیں ان میں ۔۔۔ منڈا، دراوڑ، کول، کالا ٹویک، اپرانت، پلنداور
شابرا قبائل کے آچار بھی ملے ہیں، ان قبائل نے قدیم دھارمیک اور ویسو قبائل کو علاقے
سے مار بھگایا یا انہیں داس بنا لیا تھا، اس دوران کچھ دیگر غیر آریائی قبائل انس،
درہس، دس تروشس اور پوروس بھی مغرب سے اس علاقے میں آ بسے تھے، پنڈت کلہن کشمیر کی
اپنی قدیم ترین تاریخ ۔۔۔۔ راج ترنگنی ۔۔۔ میں لکھتا ہے کہ ۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سٹون ایج کے آخر میں
وتستا ندی یعنی دریائے جہلم کے دونوں اطراف میں ملیچھ، نشد، گھیش، بھٹ، ایکنیگ، تانترے
اور ٹیاٹک قبائل نے بھی یہاں سے ہجرت کرنے والے قبائل کی جگہ لے لی تھی تاہم منڈا اور
کول قبائل نے غاروں سے باہر آ کر ٹہارے اور جھونپڑے ڈالنے شروع کر دیئے تھے اور انہوں
نے ہی گرمیوں اور سردیوں میں ڈنہ اور ناولی بہک لے جانے کی روایت بھی ڈالی تھی، انہوں
نے چقماق پتھر سے آگ بھی دریافت کر لی تھی اور کوہسار کے یہ قبائل اب اناج اور گوشت
پکا کر کھانے لگے تھے۔۔۔۔ ایک اور مستشرق بمالا سی لا اپنی کتاب ۔۔۔۔ ٹرائبز ین اینشنٹ
انڈیا ۔۔۔ میں بتاتا ہے کہ ۔۔۔ آریائوں کے ابتدائی قافلے بھی کشمیر جانے والے موجودہ
نتھیاگلی، تھوبہ، باڑیاں اور ٹھنڈیانی کے راستے کوہسار سے گزرنے لگے تھے اور ان میں سے کئی خاندان یہاں ہی بس بھی گئے تھے،
کوہسار میں جلد ہی مذہبی آریائی خاندانوں کی آمد بھی شروع ہو گئی اور ان سادئووں
اور رشیوں نے مقامی لوگوں میں جگہ بھی بنا لی۔ راج ترنگنی کے مطابق یہ مذہبی لوگ خود
کو ۔۔۔۔ مانسو پرجا ۔۔۔ یعنی آزاد لوگ کہلواتے تھے، انہوں نے ایک دو نسلوں کے بعد
مقامی چپٹی ناک والوں سے لڑنا شروع کر دیا اس دوران ان آریائی مذہبی لوگوں کے اندر
بھی ایک مفاداتی جنگ شروع ہو گئی جسے مستشرقین اور ہندوستانی انتھراپالوجسٹس ۔۔۔۔ داشو راگیا کی لڑائی ۔۔۔۔ کہتے ہیں، رام چندر
ڈکشتر اپنی کتاب ۔۔۔۔ وار ان اینشنٹ انڈیا
اور ساروا دامن سنگھ اپنی کتاب ۔۔۔ اینشنٹ انڈین وارفیئر، ود سپیشل ریفرنس ٹو
ویدک پیریڈ ۔۔۔۔ میں اس لڑائی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس جنگ میں علاقے کے دس
راجوں مہاراجوں نے حصہ لیا تھا اور ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ اس جنگ کے نتیجے میں مذہبی طبقہ نے خود کو محفوظ کرنے کیلئے دیو آسر
سنگرام یعنی ہمالیائی چوٹیوں پر پناہ لی اور ناتھ
یا مذہبی پیشوا کہلانے لگے، یہاں ہی اپنی جھونپڑیاں بھی بنا لیں مگر وہ وہاں
بھی محفوظ نہ تھے، ڈاکو اور جرائم پیشہ لوگ وہاں بھی انہیں لوٹ لیتے، ان کی خواتین
پر دست درازی کرتے بلکہ انہیں قتل بھی کر دیا جاتا، سٹون ایج کے بلکل اواخر میں ان
کی بھی سنی گئی اور اور انہیں محفوظ بنانے کیلئے ان کے گھروں اور گفوں کے قریب آشرم
بنائے جانے لگے اور ان کی حفاظت کو دیوتا کی راکھی یا تحفظ قرار دیا گیا، راکھی کا
کام جنگجو نوجوانوں کے سپرد کیا گیا اور جب دو چار نسلوں تک راکھی کا کام آگے چلا
تو اس نے باقاعدہ پیشہ کی شکل اختیار کر لی اور اس جاب کے حامل افراد کو ۔۔۔ راخیال
۔۔۔۔ کہا جانے لگا، اٹھارویں صدی کے وسط تک کوہسار کے تمام علاقوں میں ۔۔۔ راخیال
۔۔۔ نامی قبیلہ بھی موجود تھا، موجودہ یو سی بیروٹ میں دومیل، کنیر پل کے اوپر اس قبیلہ
کی آبادی تھی۔ رگ وید کے مطابق اس دوران قدیم مذہبی ادارے ۔۔۔ برہمنیت ۔۔۔۔ نے بھی صفحہ ہستی سے مٹنے کے بجائے
اپنی تشکیل نو کی اور ۔۔۔ ناتھ یا پیر ۔۔۔ بن کر کوہسار میں پہاڑوں کی بلند چوٹوں کو
اپنامرکز بنا لیا، ناتھ در اصل نتھ سے بنا ہے جس کے معانی نکیل ڈالنا کے ہیں، آج کے
موجودہ دور میں نتھ کا متبادل ۔۔۔ بیعت
۔۔۔ کہا جا سکتا ہے، کوہسار میں موجودہ نتھیا گلی اسی دور کی یاد گار ہے جہاں ناتھ
لوگ قیام کرتے تھے، کشمیر میں امر ناتھ بھی اسی دور کا رشی ہے جس نے ایک غار میں پناہ
لے رکھی تھی اور وہاں ہی پوجا بھی کیا کرتا تھا، اس کے مرنے کے بعد ہندو ازم میں اس
گف کو تقدیس کا درجہ حاصل ہو گیا، آج کے دور میں بھی ہندو ازم میں ۔۔۔ ناتھ ۔۔۔ ایک
مقدس نام ہے اور ہندو لوگ اسے اپنے نام کے ساتھ لکھتے ہیں،متحدہ ہندوستان کا نوبل انعام
یافتہ بنگالی ادیب ۔۔۔ رابندر ناتھ ٹیگور ۔۔۔ اور قائد اعظم کی کابینہ کا پہلا وزیر
قانون ۔۔۔ جوگیندر ناتھ منڈل ۔۔۔ اسی ناتھ کی بہترین مثالیں ہیں۔
*******************************
ہوتر، ہوترول اور ہوتریڑی
ویدک عہد میں قربانی کے معانی رکھتے تھے
ویدک عہد میں قربانی کے معانی رکھتے تھے
اس عہد میں کوہسار کو نئے
حکمران، انداز معاشرت اور علم و دانش کے نئے ہندوستانی خزانے بھی ملے
حکمرانوں نے اپنی رعایا کو
خوشحال بنایا، نچلے اور کچلے ہوئےطبقات کو تحفظ فراہم کیا
پہاڑی علاقے میں آنے والے
آریہ اپنے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور علوم بھی لائے جبکہ مقامی لوگ ان سے نا آشنا تھے
آرین دستکاروں کی روز بروز
بڑھتی مانگ اور شاہانہ کروفر سے قدیم تمدن بھی متاثر ہوا، زبان سمیت لائف سٹائل بھی
بدل گیا
ہوتر قبیلہ کی آبادی کو
ہوترول اور قربانی کے مقا م کو ہوتریڑی کہا جاتا تھا، ہوتریڑیاں ندی
نالوں کے کناروں پر بنائی جاتی تھیں
تحقیق و تحریر:عبیداللہ علوی
کوہ مری اور سرکل بکوٹ کے پانچ ہزار سےتین
ہزار دو سو سال قبل مسیح کے عرصہ کو مورخین، انتھراپالوجسٹ اور آرکیالوجسٹ ویدک عہد
کہتے ہیں، اس عہد میں یہ علاقہ نئے حکمرانوں، نئے انداز معاشرت اور علم و دانش کے نئے
ہندوستانی خزانوں سے مالا مال ہوا، اس عہد میں اس پتھریلی مگر جنت نظیر وادی کو جو
حکمران ملے انہوں نے نام بھی کمایا اور نظام بھی دیا، ویدک عہد کی ابتدا میں کوہسار،
آزاد کشمیر کے غربی پہاڑی علاقوں اور پوٹھوہار کے گجی پورہ سلطنت کو بھرت کے نام سے
ایک ایسا راجہ ملا جس کے نام نے بعد میں بھارت کا روپ اختیار کیا اور جب کوروئوں اور
پانڈئوں میں ہندوستان کی سب سے بڑی جنگ چھڑی تو اسی کے نام پر اس جنگ کی رزمیہ داستان ۔۔۔ مہا بھارت ۔۔۔ کہلائی،
ایک اہم کتاب ۔۔۔ دی رولنگ ریسزآف پری ہسٹورک ٹائمز ان انڈیا ۔۔۔۔ گواہی دے رہی ہے
کہ اس حکمران نے عہد جدید کے اقدامات کر کے
اپنی رعایا کو خوشحال بنایا، اس نے منو نامی ایک تاریک ذہن کے آریائی برہمن کے تشکیل
کردہ انسانیت کے کالے قوانین ۔۔۔۔ منو سمرتی ۔۔۔ کے باوجود نچلے اور کچلے ہوئے طبقات
کو تحفظ فراہم کیا،اس نے خواتین کو غلامی سے آزادی دلائی، وہ گہنے پہننے اور میلوں
ٹھیلوں میں شرکت کی بھی اہل قرار پائیں اور وہ
لہنگے پہن کر مندروں میں جانے لگیں، دیوی دیوتائوں کو چڑھاوے چڑھاتے ہوئے وہ
ان لہنگوں کو بھی ہلاتیں ۔۔۔ یہ ایک رسم تھی اور اسے ۔۔۔ لہنگے مارنا ۔۔۔۔ کہا جاتا
تھا، کوہسار میں کوئی چنچل لڑکی شوخیاں دکھائے تو اس کے بارے میں آج بھی کہا جاتا
ہے کہ ۔۔۔۔ ایویں لینغے مارنی ۔۔۔ یہ فقرہ اسی بھرت راجہ کے دور کی یادگار ہے۔
راجہ بھرت کے بعد راجوں کی ایک سیریز ملتی
ہے، ان کا پائیہ تخت یہی گجی پورہ تھا مگر
اس بات کی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ یہ راجے ۔۔۔ باپ کے بعد بیٹے تھے بلکہ ایسے لگتا
ہے کہ راجہ کے مرنے کے بعد ۔۔۔ ایسا کوئی طریقہ موجود تھا کہ نئے حکمران کو سلطانی
سے سرفراز کیا جاتا تھا، ایک ہندو مورخ جان گووندا اپنی کتاب ۔۔۔ اینشنٹ انڈین کنگ شپ فرام دی ریلیجئیس پوائنٹ
آف ویو ۔۔۔ میں لکھتا ہے کہ بادشاہ یا راجے کیلئے میرٹ یہ تھا کہ وہ ۔۔۔ رعایا کی
فلاح و بہبود کیلئے ہر خطرہ مول لے سکتا ہو، وہ مرد میدان بھی ہو، مذہبی لحاظ سے اس
کا خون خالص ہو، وہ یہ بھی ادراک رکھتا ہو کہ ذاتی انا پر کسی کی گردن نہیں اڑائی جا
سکتی بلکہ اگر پرجا یا رعایا کو ضرورت ہو تو وہ اپنی جان کو بھی ستارا یا قربانی کیلئے
پیش کرنے کا اہل ہو (بحوالہ منو سمرتی) تاریخ کے اس عرصہ کے دوران جن راجوں مہاراجوں
کے نام ۔۔۔۔ سرکل بکوٹ، کوہ مری اور پوٹھوہار کے علاقوں پر حکمرانی کے حوالے سے ملتے
ہیں ان میں ورش، کوشل آریہ، گوپال، دیوسمتھ، جمنی اور اک شواکو شامل ہیں، یہ تمام
راجے اپنے پیشرو بھرت کی طرح بہادر، جری اور شجاع تھے مگر انہوں نے باختر سے اس پہاڑی
علاقے میں آنے والے آرین غولوں کو بھی خوش آمدید کہا، آریہ اپنے ساتھ جدید ٹیکنالوجی،
فنون اور علوم بھی لائے جبکہ مقامی لوگ ان سے مکمل طور پر نا آشنا تھے، ان راجوں کی
سرپرستی میں آریائی قبائل تکاس، اناوہ اور تمار نے یہاں پر پنج سٹھ یا ماہی گیری،
شونی (کتوں کی نگہداشت)،مرگی (شکار)، رتھ کاری(تانگوں اور کرینچیوں کی ڈرائیوری یا کوچوانی)، کلالی(باورچی)،
کمہار یا برتن ساز اور دھاتوں کا کام کرنے والے کرماروں کو نہ صرف عزت اور وقار سے
ہمکنار کیا بلکہ اپنے پیشے میں سب سے ماہر کاریگر کو گائوں کا سرپنچ بھی بنایا، ایک
ہندو مورخ اور ماہر علم الانسان پرشوتم چندر
جین اپنی کتاب ۔۔۔ ہسٹری آف ایگریچلچر ان انڈیا
۔۔۔۔ میں لکھتا ہے کہ کشمیر کے پہاڑوں تک اس عہد میں بھت یا چاول کی کاشت جاری
تھی، کوہسار میں چاول کے کھیت کو ہوتر کہتے ہیں، یہ بھی اسی دور کی شروعات ہے کیونکہ
گندم کی عدم موجودگی میں چاول اس عہد کے لوگوں کی من بھاتی خوراک تھی، انسائیکلو پیڈیا
بریٹانیکا چار سو قبل مسیح کی ایک وید شوالایانا
سوتر کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ہوتر اس پروہت یا پجاری کو کہتے ہیں جو قربانی کی رسوم
کی ادائیگی کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ جنگلات میں پھرنے والے اور
بھگوان کو منانے والے جوگی بھی ہیں، ڈھونڈی زبان میں ہوتر ، ہوترول اور ہوتریڑی کے
الفاظ بھی ملتے ہیں جن کا آج کا مطلب دھان کے کھیت ہیں، اگر ان الفاظ کو سنسکرت اصول
کے تحت سماجی یا مذہبی پس منظر کے حوالے سے دیکھیں تو لفظ ہوتر کی بھی ہندو مذہب میں
ایک تقدیس ملتی ہے، گائے اس لئے ماتا ہے کہ وہ دودھ دیتی ہے اور دودھ انسان کی خوراک
ہے،ہوت یا ہووت ہونے کو کہتے ہیں، قربانی کی رسومات ادا کرنے والا ہوتر کہلاتا ہے اس
کی وجہ یہ ہے کہ قربانی (جانوروں کی نہیں) سب سے پیاری چیز کی دی جاتی ہے اور اس زمانے
میں سب سے قیمتی اور پیاری چیز چاول ہوتے تھے، زمانے کےدھیرے دھیرے گزرنے کے ساتھ ساتھ
ہوتر قبیلہ کی آبادی کو ۔۔۔ ہوترول ۔۔۔۔ بھی کہا جانے لگا اور جہاں قربانی کی جاتی
تھی وہ مقام ۔۔۔ ہوتریڑی ۔۔۔ کہلاتا تھا۔ اس قربانی کیلئے سفر کو ۔۔۔ بھت فیرا ۔۔۔
کہتے تھے اور اس کی مذہبی تقدیس ایسے ہی تھی جیسے مسلمانوں کا عمرہ ہوتا ہے، یہ ہوتریڑیاں
عموماً دریائوں اور ندی کے کناروں پر بنائی جاتی تھیں۔
لیبر ان اینشنٹ انڈیا کا مصنف ۔۔۔
لکھتا ہے کہ اس عہد کے دستکار چادر اوڑھتے تھے اور اپنا ایک کندھا ننگا رکھتے
تھے، ان آرین دستکاروں کی روز بروز بڑھتی مانگ اور شاہانہ کروفر سے کوہسار کا قدیم
تمدن بھی بری طرح متاثر ہوا اور مقامی لوگوں جن میں دراوڑوں کو اکثریت میں ہونے کے
باوجود اپنی زبان سمیت لائف سٹائل بھی بدلنا پڑا اور آخر کار نوبت بہ ایں جا رسید
کہ ۔۔۔۔ مقامی لوگ سماجی اور اقتصادی لحاظ سے اس حد تک کمزور ہوئے کہ ان کے پاس صرف
ایک آپشن رہ گیا تھا کہ وہ اپنے پرکھوں کی دھرتی کو چھوڑ دیں یا پھر شودر بن کر آریائی
تین بڑی ذاتوں کی لائف ٹائم ہر حق سے دستبردار ہو کر داس اور داسیوں کی طرح خدمت کریں۔
اس ویدک عہد میں کوہسار میں نچلے طبقات
۔۔۔ ردر اور پرنامنی ۔۔۔ دیوتائوں کی پوجا کرتے تھے،ان دیوتائوں کے مندر موشپوری سمیت
تمام ہمالیائی آشرم سنگراموں پر تھے،اس عہد کے اہم ہندو راہبوں میں مان دھاتا، ہریش
چندر، بھرت، شکنتلا، سگر دلیپ اور گواہم ناتھ تھے، آج کل ان کی بھی دیویوں اور دیوتائوں
کی طرح پوجا کی جاتی ہے۔

